6 اشعار

عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے

Ayaan hum par na hone ki khushi hone lagi hai

عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہےدیے میں اک نئی سی روشنی ہونے لگی ہے

نئی کچھ حسرتیں دل میں بسیرا کر رہی ہیںبہت آباد اب دل کی گلی ہونے لگی ہے

سو طے پایا مصائب زندگی کے کم نہ ہونگےمگر کم زندگی سے زندگی ہونے لگی ہے

ادھر تار نفس سے آ ملی ہے رونق زیستادھر کم مہلتی میں بھی کمی ہونے لگی ہے

سر آغاز دل کی داستاں میں وہ نہیں تھامگر محسوس اب اس کی کمی ہونے لگی ہے

ہماری دوستی کا دم بھریں ایسے کہاں ہیںزمانے سب سے تیری دوستی ہونے لگی ہے

— پیرزادہ قاسم