5 اشعار

ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں

Hum se na poochhī jaae gi hijr ki rahguzar kahan

ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاںشام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاں

دانہ و دام سے پرے میری اڑان یاد کرمجھ کو تلاش کر نہ دیکھ رکھے ہیں بال و پر کہاں

عشق حصار ذات سے دور بہت نکل گیاایسے میں جبر وقت بھی ہوتا ہے کارگر کہاں

ولولہ ہائے شوق سب صرف مہاجرت ہوئےاب سر منزل وفا ڈھونڈ رہے ہو گھر کہاں

چھوڑ کے کاروان شوق منزل غم پہ کر قیاممثل غبار کارواں پھرتا ہے در بہ در کہاں

— پیرزادہ قاسم