8 اشعار

عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیا

Ishq ne hum ko junoon asaara aisa kar diya

عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیابستۂ ساحل بھی رکھا اور دریا کر دیا

اس گلستان گماں میں ہم بھی تھے مانند خوابگرمیٔ اندیشہ نے ہم کو بھی صحرا کر دیا

دیدۂ خوش بیں کی یہ اعجاز فرمائی تو دیکھکیسے مبہم خال و خط کو ایک چہرا کر دیا

یہ جہاں پنہاں تھا اک بے منظری کی خاک میںہم نے چشم شوق سے دیکھا تو دنیا کر دیا

روشنیٔ طبع نے روشن کیا ہے اک جہاںاور مجھے اس آئنہ خانے میں تنہا کر دیا

جب کبھی شب زاد لمحے گھیرنے آئے ہمیںہم نے شمع جاں جلائی اور سویرا کر دیا

یہ کرامت بھی عجب اس کی مسیحائی میں ہےجو بہ ظاہر بھر دیا وہ زخم گہرا کر دیا

منتظر تھا وقت سو ہم نے بہ انداز سخنآرزو کا اک جہان تازہ پیدا کر دیا

— پیرزادہ قاسم