10 اشعار

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

Hamari tarah koi doosra hua bhi nahin

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیںوہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں

ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاںوہ بے سخن بھی نہیں اور لب کشا بھی نہیں

اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشم شوق مدامجو غم ابھی سر شاخ الم کھلا بھی نہیں

عجیب طرح سے روشن ہوئی ہے خلوت غمکہ روشنی ہے بہت اور دیا جلا بھی نہیں

یہ دشت شوق بہت عافیت گزیدہ ہےکہ اب یہاں پہ تو امکان نقش پا بھی نہیں

گزر ہے کیسی فضاؤں سے آج طائر عشقکہ زیر بازوئے پرواز اب خلا بھی نہیں

میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروںجو سوچتا بھی نہیں خواب دیکھتا بھی نہیں

یہ عشق خاک ہی ہونے کا نام تھا سو ہمیںصلہ ملا بھی بہت اور صلہ ملا بھی نہیں

یہ عصر نو کی چتاؤں میں آگ کیسی ہےکہ روح راکھ ہوئی اور بدن جلا بھی نہیں

تمام عمر عجب وضع داریوں میں کٹیاسے عزیز رکھا جو ہمارا تھا بھی نہیں

— پیرزادہ قاسم