5 اشعار

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے

Dard Hai Ke Naghma Hai Faisla Kiya Jae

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائےیعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے

آپ کتنے سادہ ہیں چاہتے ہیں بس اتناظلم کے اندھیرے کو رات کہہ دیا جائے

آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسم بھیدل میں ہنس لیا جائے دل میں رو لیا جائے

بے حسی کی دنیا سے دو سوال میرے بھیکب تلک جیا جائے اور کیوں جیا جائے

اب تو فقر و فاقہ کی آبرو اسی سے ہےتار تار دامن کو کیوں بھلا سیا جائے

— پیرزادہ قاسم