6 اشعار

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی

Ek Se Silsile Hain Sab Hijr Ki Rut Bata Gai

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئیپھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئی

میرے لہو میں جل اٹھے اتنے ہی تازہ دم چراغوقت کی سازشی ہوا جتنے دیے بجھا گئی

میں بھی بہ پاس دوستاں اپنے خلاف ہو گیااب یہی رسم دوستی مجھ کو بھی راس آ گئی

تند ہوا کے جشن میں لوگ گئے تو تھے مگرتن سے کوئی قبا چھنی سر سے کوئی ردا گئی

دل زدگاں کے قافلے دور نکل چکے تمامان کی تلاش میں نگاہ اب جو گئی تو کیا گئی

آخر شب کی داستاں اور کریں بھی کیا بیاںایک ہی آہ سرد تھی سارے دیے بجھا گئی

— پیرزادہ قاسم