5 اشعار

کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں

Kuduraton Ke Darmiyan Adawaton Ke Darmiyan

کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاںتمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاں

شعور عصر ڈھونڈھتا رہا ہے مجھ کو اور میںمگن ہوں عہد رفتگاں کی عظمتوں کے درمیاں

یہ سوچتے ہیں کب تلک ضمیر کو بچائیں گےاگر یوں ہی جیا کیے ضرورتوں کے درمیاں

ابھی شکست کیا کہ رزم آخری اک اور ہےپکارتی ہے زندگی ہزیمتوں کے درمیاں

ضمیر عصر میں کبھی نوائے درد میں کبھیسخن سرا تو میں بھی ہوں صداقتوں کے درمیاں

— پیرزادہ قاسم