5 اشعار

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

Ghar ki jab yaad sada de to palat kar aa jaen

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیںکاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیں

ہے کرامت مرے دل کی ترے ناوک میں نہیںوار ہو ایک مگر زخم بہتر آ جائیں

گفتگو آج تو دو ٹوک کرے گا سورجظل سبحانی شبستان سے باہر آ جائیں

شب کو یلغار تفکر سے جو بچ نکلوں میںصبح دم تازہ خیالات کے لشکر آ جائیں

اتنی سفاک سماعت بھی غضب ہے کہ جہاںبات پوری بھی نہ ہو ہاتھوں میں پتھر آ جائیں

— پیرزادہ قاسم