8 اشعار

ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون

Hai jabr waqt ka qissa ajab sunaaye kaun

ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کونمیں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کون

یہ بات بجھتے دیوں نے کسی سے پوچھی تھیجلے تو ہم تھے مگر خیر جگمگائے کون

اسے تلاش تو کرنا ہے پھر یہ سوچتا ہوںزمانہ اور ہے اب زحمتیں اٹھائے کون

یہاں تو اپنے چراغوں کی فکر ہے سب کودیا جلایا ہے سب نے دیے جلائے کون

یہاں تو لوگ انہی حیرتوں میں جیتے ہیںکہ تیر کس پہ چلے اور زخم کھائے کون

یہاں تو جاگتی آنکھوں میں خواب جاگتے ہیںجو جاگتے ہوں انہیں خواب سے جگائے کون

یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں ملتیمگر یہ بے خبری کی خبر سنائے کون

یہاں تو صبح سے پہلے ہی بزم برہم ہےدیا بجھا دے کوئی پر دیا بجھائے کون

— پیرزادہ قاسم