23 اشعار

ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

Hum khud bhi apne saath nahin

اک کبھی نہ بیتنے والی شباک ہاتھ نہ آنے والا دن

اس شب سے جان چھڑانے میںاس دن کو ڈھونڈ کے لانے میں

ہم ریزہ ریزہ ہو کے رہےجو پایا تھا وہ کھو کے رہے

اس پانے میں اس کھونے میںہونے میں اور نہ ہونے میں

کچھ سود و زیاں کا ہاتھ ہے کیایا اور ہی کوئی بات ہے کیا

اس ساری اضافی باتوں میںبس ایک ہی بات ضروری ہے

یاں شب کی سحر سے دوری ہےاس شب کے تسلسل میں پنہاں

اک گھور اندھیرا جہل کا ہےجس جہل کی کالی آندھی نے

جیون کے سچ کو چاٹ لیااور ہم نے اسی ویرانی میں

اک اندھا جیون کاٹ لیااس کالے اندھے جیون میں

غربت کی تیرہ بختی نےکچھ قسمت کے احسان نے بھی

کچھ جبر وقت کی سختی نےانسان سے کیا کچھ چھینا ہے

یہ جینا کیسا جینا ہےپسماندگیٔ جاں روح تلک

در آئی سیاہی اوڑھے ہوئےہم مقتل شب میں آ بیٹھے

انکار کا دامن چھوڑے ہوئےانکار کہ جس کی جنبش لب

ہر شب کی سحر بن سکتی ہےیہ جرأت و نافرمانیٔ شب

بے بس کی سپر بن سکتی ہےپھر کیوں اس قتل گہہ شب میں

آ بیٹھے ہیں جی ہار کے ہماقرار سے لب آسودہ سہی

منکر تو نہیں انکار کے ہماس شب در شب تاریکی میں

جو رات بھی ہے وہ رات نہیںاس ہارنے والی بازی میں

جو مات بھی ہے وہ مات نہیںکچھ قسمت کی سفاکی نہیں

کچھ سود و زیاں کا ہاتھ نہیںبس ایک ہی دکھ بے پایاں ہے

ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

— پیرزادہ قاسم