11 اشعار

خزاں موسم نہیں ہے

Khizan mausam nahin hai

خزاں موسم نہیں ہےایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میں

سبز پتےہوا کی آہٹوں پر کان دھرتے ہیں

گزرتے وقت میں ساعت بہ ساعتنئے پیراہنوں میں

گلابی اور گہرے سرخ عنابیدہکتے خوش نما رنگوں سے لے کر زرد ہونے تک

کبھی دھیمے کبھی اونچے سروں میں بات کرتیخوشبوؤں میں بس بسا کر

ہوا کے ساتھ محو رقص ہونا چاہتے ہیںزمیں کا رزق بن جانے سے پہلے

وہی اک اجنبی وارفتگی اور رقص کا لمحہکہیں پر دور آئندہ کے موسم کی سماعت میں

کسی سوئے ہوئے اک بیج میںخواہش نمو کی سر اٹھاتی ہے

بہت ہی پیار سے ہر شاخ کے پتے سے کہتی ہےکہ اب رزق زمیں بن کر

کسی اک نرم کونپل کی نمو کا آسرا بن جاخزاں موسم نہیں ہے

اک مسرت خیز تخلیق‌‌ عمل کا آسرا ہے

— پیرزادہ قاسم