4 اشعار

خزاں پھر آ گئی کیا

Khizan phir aa gayi kya

خزاں کی ابتدا سے انتہا تکسارا موسم ہی خزاں ہے

گزرتے جا رہے ہیں جتنے لمحے سب خزاں ہیںمگر وہ نیم جاں پتہ

جسے پہلی ہی پروائی کے پہلے سرد جھونکے نےسمیٹا ہے

نئے اک ٹوٹتے پتے سے سرگوشی میں کہتا ہےخزاں تو جا چکی تھی

— پیرزادہ قاسم