5 اشعار

جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے

Jis taraf nazar kīje wahshaton ka samaan hai

جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہےزندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہے

اک ہوائے بیتابی ہم کو لے اڑی ورنہبال و پر کے پردے میں ہمت گریزاں ہے

اے ہوائے غم تو نے سب دیے بجھا ڈالےپھر بھی خلوت جاں میں دور تک چراغاں ہے

دار و گیر وحشت میں اب پناہ کیا ڈھونڈیںیہ زمین دامن ہے آسماں گریباں ہے

میں ہوں جب تلک باقی یہ مکالمہ ہوگااے حقیقت ہستی میرا نام انساں ہے

— پیرزادہ قاسم