8 اشعار

جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعد

Jaise yaad-e-inbisat-o-gham-e-shikebaai ke baad

جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعددیر تک روتے رہے ہم بزم آرائی کے بعد

اے سرشت شوق اب ناپید ہو کر دیکھ لےاور کیا ہونا ہے اس ہونے کی رسوائی کے بعد

اس قدر سفاک کب تھی وقت کی بے منظریکور چشمی سے بھی بڑھ کر دکھ ہیں بینائی کے بعد

خود کو پا لینے کی حسرت میں بہت رسوا ہوئےکچھ سوا رسوائیاں ہیں اب شناسائی کے بعد

بے مسافت اک سفر در پیش رہنا چاہیےسوچتے ہیں عمر بھر کی جادہ پیمائی کے بعد

کل میں خود سے سلسلہ در سلسلہ ملتا رہاعالم تنہائی جیسے دشت تنہائی کے بعد

ہے وہی صحرا مگر شاداب کتنا ہو گیارہروان جنوں کی آبلہ پائی کے بعد

دل میں اب پہلی سی وہ گنجائشیں باقی نہیںپہلے اک دالان آ جانا تھا انگنائی کے بعد

— پیرزادہ قاسم