5 اشعار

نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے

Na poochhiye ke kaha kya hai an-kahi kya hai

نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہےعذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہے

عجب ہے ذوق تماشا کہ گھر جلا کر لوگیہ چاہتے ہیں سمجھنا کہ روشنی کیا ہے

پس نظر ہو اگر مقصد حیات تو پھریہ زیست وقت گزاری ہے زندگی کیا ہے

میں ملتجی ہوں نہ وہ ملتفت مگر پھر بھییہ ایک آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ہے

میں دل کے داغ دکھاؤں کہ زخم سر ان کوجو پوچھتے ہیں کہ مفہوم دوستی کیا ہے

— پیرزادہ قاسم