5 اشعار

کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیا

Kaar-e-khuloos-e-yaar ka mujh ko yaqeen aa gaya

کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیااتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیا

بس یوں ہی کچھ گماں سا تھا کوئی پس سخن بھی ہےدرد جو لب کشا ہوا مجھ کو یقین آ گیا

پھر وہ ہوا کا قہقہہ کان میں گونجنے لگااور بھی اک دیا بجھا مجھ کو یقین آ گیا

دائرہ وار تھا سفر عشق جنوں صفات کاہجر و وصال کچھ نہ تھا مجھ کو یقین آ گیا

اب مرا درد بجھ گیا اب مرا زخم بھر چلاپھر وہی دوست آئے گا مجھ کو یقین آ گیا

— پیرزادہ قاسم