10 اشعار

یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں

Yaad kya dast-e-hunar hai ke sanwarta gaya main

یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میںاس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میں

اس کو تہذیب جنوں کہیے کہ مجھ سے پہلےجیسے بکھرے ہیں سبھی لوگ بکھرتا گیا میں

نقش کتنے تھے کہ معدوم ہوئے سلسلہ واراور ہر نقش کے پہلے سے ابھرتا گیا میں

ایک تصویر بنائی تھی مکمل نہ ہوئیایک ہی رنگ لہو رنگ تھا بھرتا گیا میں

حرف اقرار ہی کہتا رہا بے خوفی سےیعنی انکار کے آشوب سے ڈرتا گیا میں

دامن وقت سے سو حرف ستائش بھی چنےاور الزام سبھی وقت پہ دھرتا گیا میں

اپنے اندر کے تلاطم نے رکھا ہے آبادخود ہی اقرار کیا خود ہی مکرتا گیا میں

مجھ میں ہر لمحہ فزوں تر ہوا اندوہ جمالاور تصویر کے مانند سنورتا گیا میں

ہر نفس بڑھتا گیا اس کی تمنا کا خروشلمحہ لمحہ اسی وحشت میں نکھرتا گیا میں

زندگی کوئے ملامت ہے کوئی کیا ٹھہرےاپنی ہی وضع کا میں ہوں سو ٹھہرتا گیا میں

— پیرزادہ قاسم