5 اشعار

خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

Khud hi roothe ho to phir us ka madawa kyun ho

خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہوہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہو

ہر بشر اپنی پریشاں نظری کے با وصفخود تماشا ہے تو پھر محو تماشا کیوں ہو

دل کے بہلانے کو امید کرم رکھتے ہیںورنہ یہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو

دشت جو میری تمنا نہ کرے دشت نہیںخاک جس میں نہ اڑے میری وہ صحرا کیوں ہو

ایک لحظہ بھی جو پاؤں غم ہستی سے فراغاک نیا رنج پکارے ہے کہ تنہا کیوں ہو

— پیرزادہ قاسم