8 اشعار

خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

Kharman-e-jaan ke liye khud hi sharar ho gaye hum

خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہمخاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہم

اپنے ہونے کا یقیں آ گیا بجھتے بجھتےبے کراں شب میں جو امکان سحر ہو گئے ہم

نامرادی میں نشاط غم امکاں تھا عجبہم کبھی شاد نہ ہو پاتے مگر ہو گئے ہم

ہم نہیں کچھ بھی مگر معرکۂ عشق کی خیرجیت مقسوم ہوئی اس کی جدھر ہو گئے ہم

جادۂ عشق ترا حق تو ادا کس سے ہواخیر اتنا ہے کہ آغاز سفر ہو گئے ہم

زندگی ایسے گزاری کہ سبک سر نہ ہوئےیعنی اس دور میں جینے کا ہنر ہو گئے ہم

تیشہ بھی ہم تھے یقیں ہم تھے تو زنداں کیا چیزیہی ہونا تھا سو دیوار میں در ہو گئے ہم

دست قدرت ہمیں کچھ اور ہے بننا سو بناچھوڑ یہ ذکر کہ قطرے سے گہر ہو گئے ہم

— پیرزادہ قاسم