5 اشعار

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

Zakhm dabbe to phir naya teer chala diya karo

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرودوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو

ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگیپہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو

شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگیصاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

مقتل غم کی رونقیں ختم نہ ہونے پائیں گیکوئی تو آ ہی جائے گا روز صدا دیا کرو

جذبۂ خاک پروری اور سکون پائے گاخاک کرو ہمیں تو پھر خاک اڑا دیا کرو

— پیرزادہ قاسم