5 اشعار

یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہے

Ye Bhi Kya Kam Hai Ke Hum Betaab Halat Mein Rahe

یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہےبن نہ پائے کچھ بھی لیکن دست قدرت میں رہے

ہم کو آنکھوں میں بسایا وقت نے مانند خواباور ہم تعبیر ہو جانے کی حسرت میں رہے

ہم نے صحرا ہو کہ گلشن ایک جیسا کر دیاجس ٹھکانے بھی رہے زنجیر وحشت میں رہے

اب صلہ حسن عمل کا کیا ملا کیا جانیےروشنی تھے ہم سو شعلے کی رفاقت میں رہے

خلوت جاں میں بڑی فرصت سے آ بیٹھا ہے غمعرصۂ فرصت ملا تو ہم بھی فرصت میں رہے

— پیرزادہ قاسم