9 اشعار

کیا ہے جو قرض شہر جاں آج ادا ہو یا نہ ہو

Kya hai jo qarz-e-shehr-e-jaan aaj ada ho ya na ho

کیا ہے جو قرض شہر جاں آج ادا ہو یا نہ ہوآگ لگی ہو یا نہیں خون بہا ہو یا نہ ہو

میری تو کشت جاں میں آج زخم ہی زخم کھل اٹھےاب مجھے کیا کہ صحن میں پھول کھلا ہو یا نہ ہو

عرصۂ شوق میں نہیں فرصت پیش و پس کا وہمزخم طلب رہیں گے ہم زخم ملا ہو یا نہ ہو

ہم نے تو ماجرائے غم بر سر عام کہہ دیااشک بہے ہوں یا نہیں شور اٹھا ہو یا نہ ہو

اس کو تو تازہ کاری و زخم گری کا شوق ہےزخم دبے ہوں یا نہیں درد تھما ہو یا نہ ہو

محرم راز ہے ہوا فاش ہے سارا ماجرااس نے کہا ہو یا نہیں ہم نے سنا ہو یا نہ ہو

اس کے تو ہے نصیب میں شب نظری و جاں کنیبھڑکے ہے خود چراغ شوق تیز ہوا ہو یا نہ ہو

ہم تو فریب کاریٔ شب کو بیان کر گئےاب یہ نصیب شہر ہے جاگ اٹھا ہو یا نہ ہو

اس کی گلی سے آج تو گزرے تھے سر بدست ہماس نے بہ یک نگاہ شوق دیکھ لیا ہو یا نہ ہو

— پیرزادہ قاسم