5 اشعار

لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے

Lamha lamha mera har ek se siwa jaagta hai

لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہےمیں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہے

بخت بھی سوتے ہیں اور گھر کے مکیں بھی لیکنسرحد شب پہ کہیں ایک دیا جاگتا ہے

خواب ہو جانے سے پہلے کوئی حرف خوش کاماسی امید پہ یہ ذہن رسا جاگتا ہے

ہم پہ ہی خاص ہیں کچھ اس کی عنایات سو ابفتنہ اس شہر میں ہر روز نیا جاگتا ہے

اے مرے درد بتا حد سے گزرنا کب ہےتو جو یوں جاگتا رہتا ہے تو کیا جاگتا ہے

— پیرزادہ قاسم