7 اشعار

اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیر

Uss ki khwahish hai yahi harf-e-wazahhat ke baghair

اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیراب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیر

ہم کو ڈھونڈو تو ہمیں کھونے کی خاطر ڈھونڈوخواب تعبیر نہیں ہوتے ہیں حسرت کے بغیر

دل کو اک کار مسلسل نے رکھا ہے آبادایک لمحہ بھی نہیں گزرا محبت کے بغیر

یوں بھی دشوار ہے آسودۂ صحرا ہونااور جب خاک بھی ہو جانا ہو وحشت کے بغیر

وقت سفاک ہے اتنا کبھی سوچا بھی نہ تھاہم اسے یاد نہ کر پائیں گے زحمت کے بغیر

ہم ترے قریۂ جاں تاب میں اتنا ٹھہرےیعنی اک لمحہ گزار آئے ہیں عجلت کے بغیر

اب تو ہم خود سے بھی کم کم ہی ملا کرتے ہیںکسی خواہش سے الگ اور ضرورت کے بغیر

— پیرزادہ قاسم