10 اشعار

میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوں

Main kab se apni talash mein hoon mila nahin hoon

میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوںسوال یہ ہے کہ میں کہیں ہوں بھی یا نہیں ہوں

یہ میرے ہونے سے اور نہ ہونے سے منکشف ہےکہ رزم ہستی میں کیا ہوں میں اور کیا نہیں ہوں

میں شب نژادوں میں صبح فردا کی آرزو ہوںمیں اپنے امکاں میں روشنی ہوں صبا نہیں ہوں

گلاب کی طرح عشق میرا مہک رہا ہےمگر ابھی اس کی کشت دل میں کھلا نہیں ہوں

نہ جانے کتنے خداؤں کے درمیاں ہوں لیکنابھی میں اپنے ہی حال میں ہوں خدا نہیں ہوں

کبھی تو اقبال مند ہوگی مری محبتنہیں ہے امکاں کوئی مگر مانتا نہیں ہوں

ہواؤں کی دسترس میں کب ہوں جو بجھ رہوں گامیں استعارہ ہوں روشنی کا دیا نہیں ہوں

میں اپنی ہی آرزو کی چشم ملال میں ہوںکھلا ہے در خواب کا مگر دیکھتا نہیں ہوں

ادھر تسلسل سے شب کی یلغار ہے ادھر میںبجھا نہیں ہوں بجھا نہیں ہوں بجھا نہیں ہوں

بہت ضروری ہے عہد نو کو جواب دیناسو تیکھے لہجے میں بولتا ہوں خفا نہیں ہوں

— پیرزادہ قاسم