5 اشعار

میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتے

Mian-e-kaar-e-duniya hum se dil nashaad kiya karte

میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتےہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتے

اگر پہچان اپنی اک دل ویران ہے تو پھروہ ہم کو شاد کیا اور ہم اسے آباد کیا کرتے

ہمیں جلدی بہت تھی عشق میں برباد ہونے کیسو پیش و پس میں پڑ کے وقت کو برباد کیا کرتے

بھلا یہ آہ و زاری شعبدہ بازوں کے بس کی ہےفغاں اعجاز ہوتی ہے فغاں ایجاد کیا کرتے

اگر ہم صرف ہو جاتے کہیں فریاد کی لے میںتو بس لے کار ہو سکتے تھے ہم فریاد کیا کرتے

— پیرزادہ قاسم