10 اشعار

اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کون

Uthh raha hai aashiyanon se dhuan dekhe ga kaun

اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کونہے مگر تعبیر خواب رائیگاں دیکھے گا کون

جل رہی ہے دل میں اک آفاق سے رشتے کی لوجیسے ہم دیکھے ہیں سوئے آسماں دیکھے گا کون

تو بہت آئندگاں کا کھینچتا ہے انتظاربے خبر وہ رونق آئندگاں دیکھے گا کون

ایک احساس شکست شب بہت روشن مگربے کراں اس بے حسی کے درمیاں دیکھے گا کون

آرزو کا اک جہان تازہ بھی منظر میں ہےمیں جسے پہچانتا ہوں وہ جہاں دیکھے گا کون

راستے روشن بہت کرتا رہا ہوں زیر پادور تک پھیلے ہیں قدموں کے نشاں دیکھے گا کون

داد جانکاہی کی کس سے پائیں اب اہل ہنرخوں چکیدہ خامہ رستی انگلیاں دیکھے گا کون

دیکھتے ہیں سب فروع شوق کی زیبائشیںکم نہیں کچھ یہ مآل شوق ہاں دیکھے گا کون

رفتہ رفتہ ہو رہے گا زخم دل کا اندمالبجھتے بجھتے بجھ ہی جائے گی فغاں دیکھے گا کون

دیکھ دل میں ہو رہا ہے اک نیا منظر طلوعجو ادھر بکھری پڑی ہے کہکشاں دیکھے گا کون

— پیرزادہ قاسم