9 اشعار

زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں

Zindagi ko ek khwab-e-raigan samjha tha main

زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میںبے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میں

راہ رو گزرے چلے جاتے تھے راہ زیست پراک ہجوم جسم و جاں کو کارواں سمجھا تھا میں

اتنی نزدیکی کہ جیسے چھو رہا ہوں خود کو میںحرز جاں ہے وہ جسے وہم و گماں سمجھا تھا میں

تھا بہت سفاک تنسیخ تعلق کا فریباس کا عالم ہے جسے اپنا جہاں سمجھا تھا میں

بے طلب آسودہ کب ہوتی ہے کشت آرزوبے گماں دل ہو رہے گا گلستاں سمجھا تھا میں

اک توقع تھی کہ یہ لہجہ بھی سمجھے گا کوئیچشم خوں افشاں کو انداز بیاں سمجھا تھا میں

ربط باہم تھا فقط لفظ و بیاں کا ارتباطہے کوئی رسم وفا بھی درمیاں سمجھا تھا میں

اس قدر مانوس تھا فطرت کے لہجے کا جمالسو اسے اپنا سخن اپنی زباں سمجھا تھا میں

یہ تو ہیں آئندگاں کی روشنی کے دائرےان کو اب تک اپنے قدموں کے نشاں سمجھا تھا میں

— پیرزادہ قاسم