5 اشعار

وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میں

Wo Ek Khwab Jo Dekha Gaya Tha Ajlat Mein

وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میںاسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میں

یہ بات سچ ہے کہ بیگار تو نہیں یہ حیاتکہ ہم کو زخم تمنا ملے ہیں اجرت میں

زیاں یہی ہے کہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیںبس ایک دھیان میں رہتے ہیں لوگ شہرت میں

ہنر کہو کہ کرامت مگر یہی ہے کہ ہمخوشی کو ڈھال بھی سکتے ہیں غم کی صورت میں

زمین جیتی ہے یا سرزمین دل اس نےسوال تشنہ رہا جشن فتح و نصرت میں

— پیرزادہ قاسم