5 اشعار

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے

Zindagi Ne Jheele Hain Sab Azab-e-Duniya Ke

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کےبس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کے

دل بجھے تو تاریکی دور پھر نہیں ہوتیلاکھ سر پہ آ پہنچیں آفتاب دنیا کے

دشت بے نیازی ہے اور میں ہوں اب لوگواس جگہ نہیں آتے باریاب دنیا کے

زندگی سے گزرا ہوں کتنا بے نیازانہساتھ ساتھ چلتے تھے انقلاب دنیا کے

ہم نے دست دنیا پر پھر بھی کی نہیں بیعتجانتے تھے ہم تیور ہیں خراب دنیا کے

— پیرزادہ قاسم