7 اشعار

یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شام

Ye Hadsa Mujhe Hairan Kar Gaya Sar-e-Shaam

یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شامجو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شام

ملے تھے ہم کہیں کار جہاں کے میلے میںاسے بھی جلدی تھی اور میں بھی گھر گیا سر شام

یہ آج کس کو اچانک مرا خیال آیاچراغ راہ میں یہ کون دھر گیا سر شام

خیال یار کی فرصت بھی اب کسے ہے نصیبیہ پھول صبح کھلا اور بکھر گیا سر شام

تمام دن کی تھکن سے میں بجھ رہا تھا مگرکسی کی یاد کا چہرہ نکھر گیا سر شام

شب فراق کا احوال یاد آ ہی گیاپھر ایک تیر سا دل میں اتر گیا سر شام

یہ صبح و شام مرے اس قدر ہی میرے ہیںکہ جی اٹھا ہوں سحر دم تو مر گیا سر شام

— پیرزادہ قاسم