چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
کلام: قمرجلالوی
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئےاِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے
وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئےاِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئےاِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے
وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئےاِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرحپھول کی طرح ہنسے رو دئے شبنم کی طرح
شکوہ کرتے ہو خوشی تم سے منائی نہ گئیہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح