اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
کلام: قمرجلالوی
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہےکس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے
مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دوجانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہےکس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے
مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دوجانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے
بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہےچیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے
چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میںدو گھڑی کے لیے صیاد! زباں ٹھہری ہے