دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
کلام: قمرجلالوی
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بسپیمانہ اپنے منہ سے خود بول اٹھا کہ بس
ذکر شب الم پہ کلیجہ پکڑ لیاکچھ اور بھی سنوگے مرا ماجرا کہ بس
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بسپیمانہ اپنے منہ سے خود بول اٹھا کہ بس
ذکر شب الم پہ کلیجہ پکڑ لیاکچھ اور بھی سنوگے مرا ماجرا کہ بس
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئےاِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے
وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئےاِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے
شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیںاور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیں
نا خدا ہوش میں آ ہوش ترے گم تو نہیںیہ تو ساحل کے ہیں آثار تلاطم تو نہیں