13 اشعار

فرار کی پہلی رات

Faraar ki pehli raat

فرار کی پہلی رات

«فرار کی پہلی رات» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

نوجوان کون ہے توآیا ہے کس نگری سے

نام کیا ہے تراکیا کام ہے آخر مجھ سے

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مناسب نہیں آنا تیراتو نے کس زعم میں اس وقت پکارا ہے مجھے

تو نے کیا سوچ کے دستک دی ہےآج کی شب مرے سوئے ہوئے دروازے پر

نوجواں کون ہے تونوجواں جو بھی ہے تو

فیصلہ سوچ سمجھ کر یہ کیا ہے میں نےلاکھ دستک کوئی دے آج کی رات

گھر کا دروازہ کسی پر بھی نہ اب کھولوں گاچاہے مہمان ہو یا کوئی ہوا کا جھونکا

سچ تو یہ ہے کہ مجھےاب تو ان تازہ ہواؤں سے بھی ڈر لگتا ہے

نوجواں ٹھیک سہیتو مجھے جانتا ہے میں بھی تجھے جانتا ہوں

تھی ملاقات تری اور مری آج سے برسوں پہلےلیکن اب اس کا یہ مطلب تو نہیں

تو سمجھ کر مجھے ہم عمر اپناجب بھی چاہے مرے دروازے پہ دے کر دستک

رت جگے مل کے منانے کے لئےمجھ کو بلانے آ جائے

جا میاں اور کہیں مجھ کو پریشان نہ کر

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں