6 اشعار

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

Garmi-e-hasrat-e-nakaam se jal jaate hain

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

«گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیںہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیےہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہمشعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں

خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفاجن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمنآشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں