9 اشعار

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

Raqs karne ka mila hukm jo daryaaon mein

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

«رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میںہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں

ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاشبوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں

اے مرے ہم سفرو تم بھی تھکے ہارے ہودھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں

جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاجبٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کااب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہےاس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہوگامسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتےاک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسدکیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں