11 اشعار

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

Apne haathon ki lakeeron mein saja le mujh ko

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

«اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کومیں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامنمیں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو

ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسمتو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو

مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنییہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھیکوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو

تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھیخود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو

باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقابکون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو

خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامنکر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو

میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارےتو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو

کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوںجتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو

بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔشرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں