6 اشعار

اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے

Is dharti ke sheesh naag ka dank bada zaherila hai

اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے

«اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہےصدیاں گزریں ، آسماں کا رنگ ابھی تک نیلا ہے

میں ہوں اپنے پیار پہ قائم اُن کی رسمیں وہ جانیںاور ہے ذات حسینوں کی اور میرا اور قبیلہ ہے

میرے اُس کے ہونٹ ہلیں تو کھِلیں ہزاروں پھول مگرکچھ تو میں چُپ رہتا ہوں، کچھ یار مرا شرمیلا ہے

آنسو ٹپکے ہوں گے اِن پر حرف جبھی تو پھیل گئےرویا ہے خط لکھنے والا، جبھی تو کاغذ گیلا ہے

میں نے کہا دو اجنبیوں کے دل کیسے مِل جاتے ہیںپیار سے بولی اِک دیوی یہ سب بھگوان کی لِیلا ہے

یوں ہی تو نہیں کہتا رہتانظمیں، غزلیں، گیت قتیلؔیہ تو کسی کی محفل تک جانے کا ایک وسیلہ ہے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں