8 اشعار

مرحلہ رات کا جب آئے گا

Marhala raat ka jab aayega

مرحلہ رات کا جب آئے گا

«مرحلہ رات کا جب آئے گا» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

مرحلہ رات کا جب آئے گاجسم سائے کو ترس جائے گا

چل پڑی رسم جو کج فہمی کیبات کیا پھر کوئی کر پائے گا

سچ سے کترائے اگر لوگ یہاںلفظ مفہوم سے کترائے گا

اعتبار اس کا ہمیشہ کرناوہ تو جھوٹی بھی قسم کھائے گا

تو نہ ہوگی تو پھر اے شام فراقکون آ کر ہمیں بہلائے گا

ہم اسے یاد بہت آئیں گےجب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

کائنات اس کی مری ذات میں ہےمجھ کو کھو کر وہ کسے پائے گا

نہ رہے جب وہ بھلے دن بھی قتیلؔیہ زمانہ بھی گزر جائے گا

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں