11 اشعار

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں

Zindagi mein to sabhi pyaar kiya karte hain

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں

«زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیںمیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کویہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے

اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پرمیں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے

تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گامیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیےمیں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے

میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروںمیں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں‌سے چرایا ہے تجھے

پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گامیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں‌میں چراغجب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے

تجھ کو چھو لوں‌تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کودیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے

تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گامیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیںمیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا !

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں