7 اشعار

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

Woh dil hi kya tere milne ki jo dua na kare

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

«وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرےمیں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کریہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میںخدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہےجو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے

اگر وفا پہ بھروسہ رہے نہ دنیا کوتو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے

بجھا دیا ہے نصیبوں نے میرے پیار کا چاندکوئی دیا مری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے

زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسےقتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں