8 اشعار

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

Aaj barson mein to qismat se mulaqat hui

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئیآپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئی

اڑ گئی خاک دل و جاں تو وہ رونے بیٹھےبستیاں جل گئیں جب ٹوٹ کے برسات ہوئی

تم مرے ساتھ تھے جب تک تو سفر روشن تھاشمع جس موڑ پہ چھوٹی ہے وہیں رات ہوئی

اس محبت سے ملا ہے وہ ستم گر ہم سےجتنے شکوے نہ ہوئے اتنی مدارات ہوئی

ایک لمحہ تھا عجب اس کی شناسائی کاکتنے نادیدہ زمانوں سے ملاقات ہوئی

قتل ہو جاتی ہے اس دور میں دل کی آوازمجھ پہ تلوار نہ ٹوٹی یہ کرامات ہوئی

گاؤں کے گاؤں بجھانے کو ہوا آئی تھیمیرے معصوم چراغوں سے شروعات ہوئی

شاعری پہلے رسولوں کی دعا تھی قیصرؔآج اس عہد میں اک شعبدۂ ذات ہوئی

— قیصر الجعفری