14 اشعار

آخری صدی کے موڑ پر

Aakhri Sadi Ke Mod Par

نہ جانے زندگی کہاں ٹھہر گئییہ فصل انتظار بھی گزر گئی

کھلا تھا اک دریچۂ فلک نمامگر ہوا کا راستہ بدل گیا

تمام آسماں ہوا دھواں دھواںزمیں کا ایک ایک خواب جل گیا

کھلی ہوئی فضا میں راکھ بھر گئیرفاقتوں کا ترجماں تھا جو لہو

وہ اس تماشا گر صدی میں بہہ گیاوہ درد مشترک جو روشنی بنے

پگھل کے وقت کی ندی میں بہہ گیاندی بدن کی تہہ تلک اتر گئی

درخت اپنے پھل کو خود ہی کھا گئےزمیں کی گود میں گرا نہ کوئی بھی

سحر کے دست ناز بے حنا رہےدعا کی آنکھ ساری رات روئی بھی

نہ جانے وہ ہوائے شب کدھر گئیہوائے سرد کہہ رہی ہے دیر سے

چراغ جاں بجھا کے سو بھی جائیےسفر میں کون پوچھتا ہے حال دل

اداسیوں کے بیچ کھو بھی جائیےنگاہ میں جو صبح تھی وہ مر گئی

منزلوں کے خواب کا قصور کیاپشت کی طرف جو قافلہ چلے

جو رہروان تیز پا بھٹک گئےتو ہم بھی نامرادیاں اٹھا چلے

زمین اپنے زلزلوں سے ڈر گئی

— قیصر الجعفری