17 اشعار

نیا خون

Naya Khoon

خاک پر گر کے لہو کون و مکاں تک پہنچاروشنی بن کے مہ و کاہکشاں تک پہنچا

عرش اعظم کے پرے لوح و قلم سے آگےکربلا سے یہ لہو جانے کہاں تک پہنچا

یہ لہو بن کے جلا راہ وفا میں قندیلکارواں مرحلۂ عزم جواں تک پہنچا

تازگی بن کے رگ لالہ و گل میں دوڑاابر بن بن کے بیابان تپاں تک پہنچا

یہ لہو چھیڑ گیا سلسلۂ دار و رسنیہ لہو آگ کی صورت رگ جاں تک پہنچا

جل گئی شمع اندھیروں کا جگر چاک ہوایہ لہو وقت کی لہروں پہ جہاں تک پہنچا

انقلابات کی تاریخ کا عنواں بن کریہ لہو قتل گہہ عصر رواں تک پہنچا

چارہ گر آئے بہت کوئی مسیحا نہ ہواسینۂ ارض کے زخموں کا مداوا نہ ہوا

کربلا آج بھی برپا ہے بہ انداز دگردشت میں رقص شہیداں کا تماشہ نہ ہوا

بند ہے آج بھی کتنوں کے لئے نہر فراتمعرکہ کوئی بظاہر لب دریا نہ ہوا

زینبیں اپنے گھروں میں ہیں ردا سے محرومدشت و کہسار میں خیمہ کہیں برپا نہ ہوا

رات پیتی ہی رہی چاند ستاروں کا لہووقت کی تیرہ فضاؤں میں اجالا نہ ہوا

کون سا وقت ہے پھر روح کی بیداری کازخم احساس اگر آج بھی تازا نہ ہوا

دل کو بیدار کریں روح کو بے باک کریںعصر حاضر کے یزیدوں کی قبا چاک کریں

اشک بے سود رہے کشت تمنا کے لیےخون دل خون جگر سے اسے نمناک کریں

موج خوں غازۂ رخسار امم ہوتی ہےآؤ اب وقت کی آواز کا ادراک کریں

زیر محراب نہیں ہوتی محبت کی نمازسایۂ دار میں اک سجدۂ بے باک کریں

— قیصر الجعفری