8 اشعار

آنکھ رکھتے ہوئے توہین نظر کون کرے

Aankh rakhte hue tauheen-e-nazar kaun kare

آنکھ رکھتے ہوئے توہین نظر کون کرےناؤ ٹوٹی ہوئی دیکھے تو سفر کون کرے

سب یہاں پار اترنے کے لئے بیٹھے ہیںسامنا تند ہواؤں کا مگر کون کرے

لاش بے گور و کفن کب سے پڑی ہے باہرسبھی قاتل ہوں تو بستی میں خبر کون کرے

لوگ جنگل کے درختوں کو اٹھا لے گئے گھردھوپ میں جلتے پرندوں پہ نظر کون کرے

دور تک راہ میں چھایا ہے خزاں کا منظرخواب آنکھوں میں نہ مہکے تو سفر کون کرے

جھلملا دے تجھے اک موج ہوا کی آہٹشمع بے مایہ ترے ساتھ سحر کون کرے

امتحان دل و جاں ہے یہ محبت کی صلیبسہل ہو معرکۂ شوق تو سر کون کرے

آج لفظوں کا بھرم ٹوٹ گیا ہے قیصرؔہم بھی نقاد ہیں تنقید مگر کون کرے

— قیصر الجعفری