5 اشعار

چہرے پہ انتظار کی پرچھائیاں ملیں

Chehre pe intizar ki parchhaiyan milin

چہرے پہ انتظار کی پرچھائیاں ملیںہم چپ تھے اس کے بعد بھی رسوائیاں ملیں

آیا نہ راس ہم کو سمندر سے بھاگناساحل کے آس پاس بھی گہرائیاں ملیں

برسوں کے بعد لوٹ کے آئے جو گاؤں ہموہ چاندنی ملی نہ وہ انگنائیاں ملیں

پانی پہ تیرتی تھی ہماری غزل کبھیڈوبے جو آنسوؤں میں تو گہرائیاں ملیں

قیصرؔ مرے نصیب کے دن بہہ گئے کہاںپانی پہ صرف شام کی پرچھائیاں ملیں

— قیصر الجعفری