7 اشعار

مرے ہاتھ میں عشق کا ساز دے کر

Mere haath mein ishq ka saaz de kar

مرے ہاتھ میں عشق کا ساز دے کرتمہیں چھپ گئے ایک آواز دے کر

یہ کیوں کر دیا پتھروں کے حوالےمجھے فطرت آئنہ ساز دے کر

یہ کس نے اٹھا کر قلم رکھ دیا ہےکہانی کو اک حرف آغاز دے کر

ہوا میں بھٹکتے پھریں اب پرندےزمیں ہٹ گئی زعم پرواز دے کر

سفر پر نکلنا ہے جس کو وہ جاگےٹھہرتا نہیں وقت آواز دے کر

غزل سادہ کاغذ پہ آنسو لکھے گیچلا جاؤں گا اپنا انداز دے کر

نہ جانے کہاں اڑ گئی عمر قیصرؔکھڑا ہوں بیاباں میں آواز دے کر

— قیصر الجعفری