12 اشعار

اجنبی لمحے

Ajnabī lamhe

ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے یہ اجنبی لمحےکہیں ایسا نہ ہو پرچھائیاں دے کر گزر جائیں

ہمیں ڈستی ہوئی تنہائیاں دے کر گزر جائیںڈھلک جاتا ہے اک اک پل پہ سر سے ریشمی آنچل

کلائی میں سنہری چوڑیاں کھنکائی جاتی ہیںچٹک اٹھتی ہوں جیسے نرم کلیاں شاخساروں پر

حنائی انگلیاں اس ناز سے چٹخائی جاتی ہیںنشہ سا بھر دیا آنکھوں میں شرم اجنبیت نے

ادائیں اور زیادہ خوب صورت ہوتی جاتی ہیںتعارف بے تعارف ہو چکا آؤ ہنسیں بولیں

کہ اب خاموشیاں بڑھ کر قیامت ہوتی جاتی ہیںملاقاتوں کے دامن میں تبسم بھی ہے آنسو بھی

قرار جاں میسر ہو کہ زخم دل ملے ہم کواڑے جاتے ہیں پر تولے ہوئے یہ اجنبی لمحے

خدا معلوم کس عالم میں مستقبل ملے ہم کومجھے تم اجنبی کہہ لو تمہیں میں اجنبی کہہ لوں

مگر اپنائیت کے تانے بانے بن رہا ہوں میںمری خاموش نظروں کے تقاضے تم پہ واضح ہیں

تمہارے مرتعش ہونٹوں کے نغمے سن رہا ہوں میںتمنا کے یہ لمحے جن میں گیرائی ہے صدیوں کی

ہماری روح کی خلوت سرا سے ہو کے آئے ہیںزباں کھولو کہو میں ان حسیں لمحوں سے کیا کہہ دوں

یہ لمحے پوچھتے ہیں کیا ابھی تک ہم پرائے ہیںہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے یہ اجنبی لمحے

— قیصر الجعفری