12 اشعار

سادگی

Sādgi

میرے ماضی کا کوئی زخم مرے پاس نہیںجس سے جو چیز ملی تھی اسے پھیر آیا ہوں

تیری زلفوں کے ستارے تری آغوش کے پھولجانے کن راہ گزاروں میں بکھیر آیا ہوں

ہو گئی ہوگی بلند اور بلند اور بلندمیں ترے گرد جو دیوار سی گھیر آیا ہوں

تو مری راہ سے گزری تھی ستارے لے کرمیرے احساس پہ چھائے ہوئے سائے نہ گئے

تیری آنکھوں سے تو برسی تھی مئے ہوش رباخشک ہونٹوں سے یہ پیمانے لگائے نہ گئے

تیری پھیلی ہوئی بانہوں نے پکارا لیکندو قدم مجھ سے تری سمت اٹھائے نہ گئے

میں نے الفاظ کے پردے میں محبت ڈھونڈیارتعاش لب گل گوں کی صدا سن نہ سکا

میں نہ سمجھا تری خاموش نظر کا مفہومآنکھوں آنکھوں میں وہ اقرار وفا سن نہ سکا

میں نے انداز تمنا کو تغافل جاناتیری بھیگی ہوئی پلکوں کا گلہ سن نہ سکا

آج جب زخم تمنا کا نشاں تک نہ رہاتو مجھے زخم تمنا کی دوا یاد آئی

خاک اڑنے لگی جب روح کے ویرانے میںتیری بکھری ہوئی زلفوں کی گھٹا یاد آئی

آج جب سوکھ گئے پھول ہی ارمانوں کےتیرے مہکے ہوئے آنچل کی ہوا یاد آئی

— قیصر الجعفری